Skip to main content

کورونا وائرس کی ایک اور علامت سامنے آگئی

چین سے دنیا بھر کے تقریباً تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لینے والے خطرناک
کورونا وائرس سے متعلق سائنسدان دن رات تحقیقات کر رہے ہیں۔

ماہرین کی جانب سے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سماجی دوری اختیار کرنے اور لوگوں کو آپس میں مصافحہ اور گلے ملنے سے منع کیا گیا ہے۔
ماہرین نے سب سے پہلے کورونا وائرس کی علامات میں تیز بخار، خشک کھانسی اور سانس لینے میں دشواری پیش آنے کے حوالے سے بتایا تھا۔
بعد ازاں سائنسدانوں کی جانب سے کورونا وائرس کی علامات پر مزید تحقیق کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کی سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت متاثر ہونے کے ساتھ پٹھوں میں تکلیف بھی ہوتی ہے۔
لیکن اب کورونا وائرس کی ایک اور نئی علامت سامنے آئی ہے جس کا تعلق جِلد سے 
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ شخص میں پاؤں کی انگلیوں میں انفیکشن یا پاؤں کی انگلیاں نیلی ہونے کی علامت بھی ظاہر ہوئی ہے۔
حال ہی میں امریکی ریاست لاس اینجلس میں ایک خاتوں پاؤں کی انگلیاں نیلی ہونے کے بعد اسپتال پہنچی جہاں ان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔
اب امریکن اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی کی جانب سے ایک گائیڈ لائن جاری کی گئی ہے جس کے مطابق انسان کی جِلد پر مختلف نشانات (جیسے مکڑی یا کسی کیڑے کے کاٹنے سے ہونے والے زخم کی طرح) ہونے کا تعلق بھی کووڈ-19 سے ہے۔
جرنل آف امریکن اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی میں شائع ہونے والے مطالعے کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کووڈ-19 کے مریضوں میں جِلد کے عام انفیکشن کی طرح دکھنے والے ریشز ہونے کے بھی امکانات ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے لوگوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ اگر کسی بھی شخص کو اس طرح کے جِلد کے انفیکشن کا سامنا ہو تو فوری تشخیص کرائے

Comments

Popular posts from this blog

Baby Cats - Cute and Funny Cat Videos Compilation #27 | Aw Animals

Siah Raat Horror Stories In Urdu Free 2020

سزا

لاہور کے گنجان آباد علاقے میں اماں اپنے بیٹے‘بہو اور پوتے سفیان کے ساتھ رہتی تھی۔اماں کا پوتا سفیان بہت اچھا لڑکا تھا وہ سب سے بہت پیار کرتا اور سب کا بہت خیال رکھتا تھا خصوصاً اسے جانوروں سے بہت پیار تھا جتنا اسے جانوروں سے پیار تھا اتنا ہی اُس کی دادی جانوروں سے نفرت کرتی تھی۔ ایک دن سفیان کہیں سے ایک بہت پیاری بلی لے آیا اُس کی دادو نے بہت شور مچایا لیکن سفیان نے اُن کی ایک نہ سنی اور بلی کو اپنے گھر میں رکھ لیا۔ اماں ہر وقت اس فکر میں رہتی تھیں کہ کہیں بلی میرے بستر پر نہ سو جائے اور برتنوں میں منہ نہ ڈالے کیونکہ بلی سب گھر والوں سے مانوس تھی اور ان کے بستر میں گھس کر بیٹھ جاتی تھی․․․․․اماں بہت صفائی پسند اور سخت مزاج خاتون تھیں اور وہ بلی کو گھر سے نکالنے کی فکر میں رہتی تھیں چونکہ وہ اپنے پوتے سے بہت پیار کرتی تھی اس وجہ سے اُسے برداشت کررہی تھیں ۔ پھر ایسا ہوا کہ بلی کچھ دنوں کے لئے غائب ہو گئی اور کہیں دکھائی نہیں دی تو اماں نے شکر ادا کیا کہ اس مصیبت سے تو چھٹکارا حاصل ہوا۔ایک دن اماں سورہی تھیں کہ اُن کے کانوں میں ہلکی ہلکی میاؤں میاؤں کی آوازیں آنے لگیں۔...