بیراپجاری سے میری ملاقات جس طرح ہوئی،وہ بجائے خود ایک دلچسپ واقعہ ہے جسے اتنے عرصے بعد یاد کرتا ہوں،تو ہنسی آجاتی ہے۔میری اس کی یہ ملاقات بعدازاں گہری دوستی میں بدل گئی اور کئی برس تک ہم دونوں ایک ساتھ جنگلوں میں پھرتے رہے۔مجھے اپنی شکاری،بلکہ”جنگلی زندگی“میں یوں تو سینکڑوں عجیب عجیب آدمیوں سے ملنے کا اتفاق ہوا، لیکن بیراپجاری کا جواب نہیں۔میں نے ایک لنگوٹی کے سوا اس کے دبلے پتلے،ہڈیاں نکلے ہوئے جسم پر کبھی کپڑا نہیں دیکھا۔ پستہ قد، منڈا ہوا سر،چھوٹی چھوٹی دھنسی ہوئی زرد آنکھیں اور نہایت مسکین چہرہ جسے دیکھتے ہی سنگ دل سے سنگ دل آدمی بھی ایک مرتبہ نرم پڑ جائے اور چہرے سے زیادہ اس کی شیریں آواز اور عجز و خوشامد کا اظہار کرتا ہوا لہجہ دوسروں پر فوراً اثر کرتا تھا۔اپنے ان دو فطری ہتھیاروں سے بیراپجاری نے جتنا فائدہ اٹھایا، اس کی مثال مشکل ہی سے ملے گی۔ ان صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اس میں عیاری، مکاری، دور اندیشی اور برجستہ جھوٹ بول کر دوسروں کو بیوقوف بنانے کی ”خوبیاں“بھی موجود تھیں۔وہ اپنے آپ کو اونچی ذات کا برہمن کہتا، اپنے علاقے اور برادری کے لوگوں پر بھی اس کا خاصا اثر تھا۔ میں اس زمانے م...